الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حلالہ کیلئے صرف نکاح وہ بھی عدت میں

سوال

میرے بھائی نے اپنی بیوی کو کسی وجہ سے تین طلاق دیدی، دو ماہ کا حمل ہے، تین بچے ہیں، اب بھائی صاحب سخت پریشان ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں یہ خودکشی نہ کر لیں، ایک مولوی صاحب نے بتلایا ہے کہ بغیر عدت کے کسی اور سے نکاح کر دو اور پھر وہ طلاق دیدے، اس کی عدت کی بھی ضرورت نہیں، پھر اپنے بھائی سے نکاح کرادے، کیا اس طرح نکاح درست ہو جائے گا؟

جواب

آپ کو جو مسئلہ بتایا گیا ہے کہ بغیر عدت کے نکاح کر دیا جائے، یہ شرعی مسئلہ نہیں بلکہ گڑیوں کا کھیل ہے، ایسا ہرگز نہ کیا جائے، اس سے نہ نکاح درست ہوگا، نہ وہ عورت آپ کے بھائی صاحب کیلئے حلال ہوگی، جب بچہ پیدا ہوگا، اس وقت عدت ختم ہوگی، اس کے بعد کسی دوسرے شخص سے اسکا نکاح کیا جائے، نکاح میں یہ شرط نہ ہو، کہ وہ شخص پھر طلاق دیدے ورنہ یہ کام موجب لعنت وغضب ہوگا وہ شخص نکاح کے بعد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو