الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین طلاق کے بعد توبہ سے حلالہ نہیں ہوتا

سوال

میرے دوست نے اپنی زوجہ کو تین طلاق دیدی، اس کے بعد وہ دونوں میاں بیوی کی طرح رہنے لگے، جب ہم نے کہا تو جواب دیتے ہیں، کہ جب اللہ تعالیٰ شرک کے گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں، (توبہ کے بعد) تم ہم نے بھی طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لیا ہے، اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بھی معاف کر دیں گے، اس مسئلہ میں شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

توبہ کا حاصل یہ ہے کہ اس گناہ کو بالکل چھوڑ دے، یہ مطلب نہیں کہ توبہ کا لفظ ہی زبان سے کہتا رہے اور گناہ میں مبتلا بھی رہے، یہ توبہ نہیں، یہ تو خدا تعالیٰ کے ساتھ مذاق ہے، مشرک اگر اپنے شرک سے بازی ہی آجائے اور کبھی اس کے پاس نہ جائے تو اسکی توبہ قبول ہے، لیکن توبہ کا لفظ بھی بولتا رہے، اور شرک بھی کرتا رہے، تو وہ مشرک ہی ہے، اس کی توبہ توبہ ہی نہیں، وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو