الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حلالہ بذریعہ مراہق

سوال

(۱) ایک عورت جس کو تین صریحی طلاق دے دی گئی تھی اور عدت گزرنے کے بعد اس نے ایک مراہق سے جس کی عمر تقریباً ۱۴ ارسال یا ۱۵ ارسال کی تھی، شادی کر لی، اور اس مراہق نے صحبت کے بعد پھر تین طلاق دیدی، تو مراہق کی طلاق ہو جائے گی، یا نہیں؟ کیونکہ یہ ابھی سن بلوغ کو تو پہنچا نہیں۔ (۲) اور اگر یہ طلاق نہیں واقع ہوگی تو یہ مراہق اپنی بیوی کے ساتھ جماع کر سکتا ہے یا نہیں، یا اس طلاق کی وجہ سے جو کہ اس نے مراہق ہونے کی حالت میں دی یہ بیوی اس پر حرام ہو جائے گی؟ (۳)

جواب

(۱) نا بالغ کی طلاق واقع نہیں ہوتی، اگر چہ وہ مراہق ہو، پس صورت مسئولہ میں اس مراہق کی طلاق واقع نہیں ہوئی: لا ينكح مطلقة بالثلاث حتى يطاها غيره ولو مراهقا الداني من البلوغ نهر. ولابد ان يطلقها بعد البلوغ لان طلاقه غیر واقع در منتقی عن التاتارخانيه الخ در مختار وشامی ص: ۸۳، ج: ۲. (۲) حرام نہیں ہوئی بلکہ جماع کر سکتا ہے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو