الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حلالہ کے لئے زوجین کا دخول میں اختلاف

سوال

عبد الودود نے اپنی منکوحہ مدخولہ بیوی کو طلاق مغلظہ دیدی، (عورت کے ساتھ ایک شیر خوار بچہ بھی عبدالودود سے ہے) بعد ازاں مطلقہ کا نکاح ریاض الدین سے ہو گیا، عدت ختم ہو جانے کے بعد ریاض الدین نے ایک شب اپنے نکاح میں رکھ کر طلاق دیدی، اور عدت ختم ہونے پر شوہر اول عبدالودود سے نکاح کرایا گیا، ریاض الدین نے ایک شب اپنے نکاح میں رکھ کر دوسرے دن صبح کو تینوں طلاق دیدی اور طلاق دینے کے بعد یکے بعد دیگرے تین آدمیوں نے ریاض الدین سے دریافت کیا کہ ہم بستری کر کے تم نے طلاق دی ہے، یا بس ایسے ہی، تو اس نے ہم بستری کا اقرار کیا،…

جواب

تین طلاق کے بعد عدت گزار کر دوسرے شخص سے ہم بستری ہو کر جب اس کی طرف سے طلاق ہو اور عدت ختم ہو جائے، تب شوہر اول کیلئے دوبارہ نکاح کی اجازت ہوتی ہے، اگر شوہر ثانی نے جماع نہ کیا ہوتو وہ شوہر اول کیلئے ہرگز ہرگز حلال نہیں ہوتی جھوٹ بول کر ہم بستری کا اقرار کرنے سے جھوٹ کا گناہ منتقل ہوتا ہے، اور شوہر اول کیلئے حرام ہی رہتی ہے، اس کا وبال مستقل ہے، اس کو ذہن نشین کرانے کے بعد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو