نابالغ کے ذریعہ حلالہ
سوال
قطعی یعنی مغلظہ طلاق کے بعد عورت کا حلالہ ایک نابالغ لڑکے سے کر کے پھر اس سے طلاق دلوا کر بعد عدت پھر پہلے شوہر سے نکاح کیا جاسکتا ہے، یا نہیں؟ ایسا فتوی بھی ان حضرات کے پاس موجود ہے، ان کے قول کے مطابق آیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
اگر لڑکا نابالغ، بالغ ہونے کے قریب ہو تب بھی اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی: لا يقع طلاق الصبي الخ لہذا یہ حلالہ صحیح نہیں ہوا، اور پہلے شوہر کیلئے وہ عورت حلال نہیں ہوئی، بلکہ حرام ہی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔