غیر مدخولہ کو تین طلاق کے بعد حلالہ کی ضرورت
سوال
(۱) زید نے اپنی لڑکی کو مہر مقررہ اور چند شرائط کے ساتھ اس شرط پر کہ خلاف شرط پر زید کو ایک طلاق واقع کرنے کا حق حاصل ہوگا، عمر کے نکاح میں دیدیا، عمر نے شرائط کے ساتھ قبول کیا، آیا زید کو شرعی طور پر حق حاصل ہو گا یا نہیں؟ (۲) کسی نے اپنی زوجہ کو رخصتی اور خلوت صحیحہ سے قبل طلاق کنایہ یا صریح یا تین طلاق متفرق کر کے دیدیا، یعنی میں نے طلاق دیدیا، طلاق دیدیا، طلاق دیدیا، یا ایک لفظ میں تین طلاق دیدیا یعنی میں نے تین طلاق دیدیا، آیا وہ مرد اس عورت سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو اس میں عدت یا دوسرے سے نکاح وصحبت وعدت…
جواب
(۱) جب عمر نے شرائط کو منظور کر لیا تو اب شرائط کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں زید کو اپنی لڑکی پر ایک طلاق بائن واقع کرنے کا اختیار ہوگا، بشرطیکہ ایجاب نکاح عورت یا اس کے ولی کی طرف سے ہوا ہو اور مرد نے اس کو قبول کیا ہو، لیکن اگر ایجاب نکاح مرد کی طرف سے ہوا ہو اور پھر لڑکی یا اس کے ولی نے شرائط پیش کئے ہوں تو مرد اس کا اس وقت تک پابند نہیں جب تک از سر نو ان شرائط کو منظور نہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔