عورت کو طلاق اور رجعت کا علم ہونا ضروری نہیں
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی، بیوی کو معلوم نہیں تو اس صورت میں خود بخود بیوی کے عدت کی نیت کئے بغیر عدت گزر جائے گی یا نہیں؟ نیز شوہر اپنے طور پر رجوع کرے، دل میں نیت کرے یا زبان سے کہہ دے کہ میں رجوع کرتا ہوں، بیوی کو جیسے طلاق کا علم نہیں ایسے ہی رجوع کا بھی علم نہیں، تو اس صورت میں شوہر کا رجوع کرنا صحیح ہوگا یا نہیں؟
جواب
اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور بیوی کو اس کا علم نہیں ہے، جب بھی وقت طلاق سے ہی عدت شروع ہو جائے گی، عدت کا گذرنا عورت کے علم پر موقوف نہیں: وكذا تنقضى العدة بدون العلم به الخ وعلى هذا يبنى وقت وجوب العدة انها تجب من وقت وجود سبب الوجوب من الطلاق والوفاة وغير ذلك حتى لو بلغ المرأة طلاق زوجها او موته فعليها العدة من يوم طلق او مات الى ان قال.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔