الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق اور رجعت بغیر بیوی کو اطلاع کئے

سوال

ایک شخص نے اپنی عورت کو ایک طلاق رجعی معلق بشرط واحد دی شرط پوری ہونے پر صرف رجوع لفظی کیا عورت کو اور نہ کسی اور کو عرصہ دراز تک خبر دی، نیز جب اس کو طلاق پڑی تو عورت کے بچہ ہونیوالا تھا، صورت مسئولہ میں کئی سوال ہیں: اول یہ کہ وضع حمل کے بعد اس کی عدت ختم ہو گئی یا نہیں؟ دوسرے مرد نے جو رجوع لفظی کیا ہے جس کی اطلاع نہ عورت کو دی اور نہ کسی اور شخص کو، بجز خدا اور شوہر کسی کو معلوم نہیں، صحیح ہوا یا نہیں؟

جواب

(۱) صرف قول سے رجعت بلا کراہت درست ہے اور صرف فعل سے رجعت مکروہ ہے رجعت پر کم از کم دو عادل آدمیوں کو گواہ بنانا مستحب ہے اور بلا گواہ بنائے بھی رجعت صحیح ہے، عورت کو رجعت کی اطلاع کرنا بھی مستحب ہے اور بغیر اطلاع کئے بھی رجعت درست ہے، ”الرجعة على ضربین سنی وبدعى، فالسنى هوان يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها ويعلمها ولوراجعها بالقول ولم يشهد او اشهدو لم يعلمها كان مخالفاً للسنة…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو