الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اپنی بیوی دوسرے کو دیدینا

سوال

تین آدمیوں نے ایک چوتھے آدمی سے ہنسی کی کہ اگر تو ۳۰ روپے اور تین جوڑے کپڑے لائے تو ہم تینوں اپنی اپنی بیوی تجھے دیدیں گے، اور اگر تو ۳۰ روپے اور تین جوڑے کپڑے نہ لایا تو تیرے سے جرمانہ لیا جائے گا، اور اگر ہم نہ دیں تو تو واپس لے لینا، اب وہ آدمی کسی طرح ۳۰ روپے اور تین جوڑے کپڑے لے آتا ہے، اور ان کو دیدیئے انہوں نے وہ کپڑے اپنی اپنی عورتوں کو پہنا دیئے اور انکو اس شخص کے ساتھ کر دیا، اور یہ کہہ دیا کہ ہم نے تجھے دیدی، عورتیں بھی بخوشی اس کے ساتھ چل دیں، گاؤں سے کچھ دور چل کر پیر جلنے کا بہانہ کر کے دو عورتیں…

جواب

ان تینوں عورتوں کا نکاح اس چوتھے آدمی سے صحیح نہیں ہوا، اور اگر تینوں کے شوہروں نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ تم اس مرد سے نکاح کر لو اور اس سے طلاق کی نیت کی ہے، تو طلاق واقع ہو گئی، اور اگر یہ کہا ہے ہم نے ان کو آزاد کر دیا اور پھر تجھ سے نکاح کر دیا تو تینوں پر طلاق واقع ہوگئی:

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو