زوجین کی باہمی رضا مندی سے بعض حقوق زوجیت سے دست برداری اور طلاق
سوال
زید نے دوشادیاں کی ہیں، پہلی بیوی کے تین بچے ہیں، اور اس کو طلاق دینا چاہتا ہے، لیکن بیوی کا اصرار ہے کہ وہ بچے چھوڑ کر نہیں جاسکتی، اور صرف کپڑا اور رزق کی خواہاں ہے، زید اس کو نان ونفقہ فراہم کرتا ہے، مگر حقوق زن وشوہر پر آمادہ نہیں، کیا وہ بعد از طلاق زید کے گھر رہ سکتی ہے؟ باپ کہتا ہے کہ اگر تو نے طلاق دی تو میں خود کشی کرلوں گا، ایسی صورت میں طلاق دے یا نہیں؟ (۲) زید اگر طلاق دیدے تو کس قدر مہر واجب ہے، جب کہ زید کے دولڑ کے اور ایک لڑکی ہے، کیا مہر بخشا جا سکتا ہے؟ (۳)
جواب
(۱) اگر زید اپنی زوجہ کے ساتھ ہم بستری وغیرہ نہیں کرنا چاہتا، طبیعت راغب نہیں اور اس بناء پر طلاق دینا چاہتا ہے، اور زوجہ علیحدہ ہونا نہیں چاہتی اور ہمبستری وغیرہ کا مطالبہ نہیں کرتی، اور صرف کپڑا ونفقہ چاہتی ہے اور زید نان ونفقہ دینے کے لئے آمادہ ہے اور زید کا والد اس طلاق سے سخت نا خوش ہے، یہاں تک کہ خودکشی کے لئے تیار ہے، تو پھر طلاق دینے کی کوئی ضرورت نہیں، زید کا مقصد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔