الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پوری تدبیر وتفہیم کے بعد طلاق

سوال

(۱) مسئلہ طلاق میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ہدایات بیوی کو طلاق دینے سے پہلے سمجھانا چاہئے، اگر نہ مانے تو ڈانٹ ڈپٹ کرنا چاہئے، اس پر بھی متنبہ نہ ہو تو بیوی کا بستر علیحدہ کر دے، یہ بھی کافی نہ ہو تو ضرورت کے مطابق مار پیٹ کی بھی اجازت ہے، پھر بھی نہ مانے تو ایک طلاق دے کر چھوڑ دے، شاید اصلاح کے لئے کافی ہو جائے، یہ سب طریقے استعمال کرنے کے بعد طلاق قطعی دینے کے لیے فرمایا گیا آپ کا یہ فرمانا دو حال سے خالی نہیں یا تو بطور مشورہ ہے، یا پھر بطور حکم اگر بطور مشورہ ہے، تو یہ طریقہ استعمال کئے بغیر بیوی…

جواب

(۱) دو چیزیں ہیں، ایک ہے کسی شئی کی ممانعت، ایک ہے اس ممانعت کے باوجود اس کا امر وحکم، اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور کیا جائے کہ طلاق کو ابغض المباحات فرمایا گیا ہے جو بہت قبیح چیز ہے، اور طلاق بدعی (ایک دن تین طلاق دینا)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو