نوسوالات اور ان کے جوابات
سوال
ایک شخص اپنی زوجہ کو چھوڑ کر اپنے سلسلہ معاش کے لئے باہر چلا گیا تھا، اس عورت کا تعلق شوہر کے بھائی سے ہو گیا، اس تعلق کی بنا پر عورت حاملہ ہوگئی، اس پر شوہر نے اس سے قطع تعلق کر لیا، زوجہ مذکورہ کے والد نے طے کیا کہ اس بھائی سے نکاح کر لیا جائے، اس کی خالہ نے اس عورت کو دوسری جگہ رکھوا دیا، اب وہ یہاں آکر وضع حمل ہوئی اور اس کے گھر رہنے لگی، اور ازدواجی زندگی سے بھی دوچار ہوئی، ایک سال تک یہی سلسلہ قائم رہا، ایک سال کے بعد شوہر حقیقی نے انقطاع تعلق کی خبر دی اور گھر آکر دوسری عورت سے نکاح کر لیا، بذریعہ خط صرف…
جواب
(۱) کبیرہ گناہ ہے۔ (۲) محض اس کے انکار سے طلاق نہیں ہوئی ہے۔ (۳) اس سے بھی نکاح ختم نہیں ہوا۔ (۴) کسی نامحرم کے ساتھ رکھ دینا بھی نا جائز ہے۔ (۵) یہ بھی معصیت ہے۔ (۶) یہ شوہر کی زیادتی ہے، اس کو چاہئے کہ نالائق عورت کو طلاق دیدے۔ (۷) یہ بے جا کی ضد ہے، جس کی وجہ سے عورت کو معصیت سے چھٹکارہ مشکل ہے۔ (۸)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔