بیوی سے صحبت کے وقت یہ تصور کہ فلاں اجنبیہ سے صحبت کر رہا ہوں
سوال
زید اپنی اہلیہ سے صحبت کرتے وقت کہتا ہے کہ یہ سوچو کہ فلاں غیر محرم تمہارے ساتھ صحبت کر رہا ہے، اور خود بھی زبان سے یہ کہتا ہے کہ میں فلانہ کے ساتھ صحبت کر رہا ہوں، کیا ایسا کہنے پر نکاح پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا، زید کو یہ اطلاع اپنے مرشد کو بھی کرنا چاہئے یا نہیں؟ زید نے اب توبہ کر لی ہے۔
جواب
ایسا کہنے سے نکاح تو نہیں ٹوٹتا، البتہ یہ بے حیائی اور گناہ ہے، اگر زید توبہ پر قائم رہے تو مرشد کو خبر کرنا ضروری نہیں، ورنہ خبر کر کے تدبیر دریافت کر لی جائے کہ کس طرح اس بے حیائی سے نجات ملے، خدائے پاک معاف فرمائے، اور محفوظ رکھے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔