بے سلیقہ زوجہ کو طلاق اور دھو کہ والی صورت میں تفریق
سوال
ایک شخص نے اپنے امام صاحب سے کہا کہ تم اپنی لڑکی مجھ کو دے دو تو میں ایک عقل مند عورت سے تمہارا نکاح کرادوں گا، لہذا امام صاحب نے اپنی طرف سے کہہ دیا، پھر اس شخص نے ایک بے عقل عورت سے امام صاحب کا نکاح کرا دیا، جس کو دیکھنے سے معلوم ہوا اور امام صاحب کی لڑکی کا نکاح اپنے رشتہ دار کے لڑکے سے کرادیا، اب اس بد تمیز عورت کو ڈیڑھ سال تعلیم دینے پر معلوم ہوا کہ یہ تمیز پر نہیں آتی لہذا اب اس کو آزاد کرنا کیسا ہے؟ اور اپنی لڑکی کو کیونکہ اس شرط پر دی تھی، کہ عقل مند عورت سے نکاح کر دیں گے آزاد کرانا کیسا ہے؟
جواب
بہتر یہ ہے کہ امام صاحب اس کو آزاد نہ کریں بلکہ آہستہ آہستہ اس کی تربیت اور اصلاح کرتے رہیں، کچھ نہ کچھ درست ہو ہی جائے گی، اگر دل میں نفرت زیادہ بیٹھ گئی اور حقوق کی ادائیگی میں دشواری ہونے لگی اور نباہ نہیں ہو سکتا تو ایسی حالت میں شریعت نے آزاد کرنے سے منع نہیں کیا، بلکہ اجازت دے دی ہے، جس نے دھو کہ کیا ہے اگر عمداً دھو کہ کیا ہے تو وہ گنہ گار ہے، اس کو توبہ لازم ہے اور جس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔