الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح بلا طلاق اور طلاق بلا وجہ اور استفتاء میں نازیبا الفاظ کا استعمال

سوال

کنٹرول کے زمانے میں ایک ایسوسی ایشن تھی، جس سے قوم کو فائدہ ہوتا تھا، مگر مسمی عیسی نے تفرقہ ڈال کر قوم کو کافی نقصان پہونچایا اور وہ قوم کی نظروں میں ذلیل وخوار ہوا۔ عیسی نے اپنی دختر فاطمہ کا نکاح عبدالستار سے کیا، حسب دستور سسرال آتی رہی، عید الاضحیٰ کے موقع پر جب وہ میکہ آئی تو اس نے پھر لڑکی کو نہیں بھیجا اور دوسرے لڑکے سے نکاح کر دیا، عبد الستار نے حق زوجیت کا دعوی کیا اور عدالت نے فیصلہ بھی اس کے حق میں دیا، مگر عیسی پھر بھی اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آیا، دوسرے خاوند کو جب یہ حقیقت معلوم ہوئی تو وہ بھی…

جواب

اپنے ذاتی مفاد کے لئے قوم میں تفرقہ ڈالنا شرعاً نہایت قبیح ومذموم ہے جس کو سب ہی جانتے ہیں، یہ تو دریافت کرنے کی بات ہی نہیں، شوہر نے طلاق نہ دی ہو اور شرعی تفریق بھی نہ ہوئی ہو، پھر دوسری جگہ نکاح کر دیا جائے تو یہ شرعی نکاح نہیں، بلکہ حرام کاری کا دروازہ ہے، جس کا دنیا وآخرت میں سخت وبال ہے، بلا وجہ طلاق دینا بھی اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اور بیوی کو ناحق زدوکوب کرنا اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو