الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بالغہ کا نکاح جبراً اور پھر طلاق اور پھر طلاق سے انکار

سوال

مسماۃ رئیسہ کی عمر بائیس سال تھی، جب کہ یہ اپنے ماموں کے یہاں گئی ہوئی تھی، ماموں نے ایک جگہ سے کچھ روپیہ لے کر مسماۃ رئیسہ کا نکاح کرنے کی کوشش کی، مسماۃ رئیسہ کو جب یہ معلوم ہوا اس نے انکار کیا کہ میں نکاح کی اجازت نہیں دے سکتی اور تم کو یہ اختیار نہیں، بلکہ میرے والد کو یہ حق حاصل ہے، غرض ماموں نے بلا اجازت جبراً نکاح کر کے ان کے حوالہ کر دیا، خلوت میں مسماۃ نے بچنے کی ہر چند کوشش کی اور مار پٹائی تک کی نوبت آئی لیکن پھر بھی اپنی طاقت سے جبراً مسماۃ سے جماع کیا، غرض مسماۃ کسی طرح راضی نہیں، شوہر نے عام شارع پر…

جواب

مسماۃ نے جس طرح کہ ایجاب وقبول سے پہلے نکاح سے انکار کیا، اگر ایجاب وقبول کے بعد بھی کہہ دیا کہ مجھے یہ نکاح منظور نہیں، جیسا کہ سوال سے ظاہر طور پر معلوم ہوتا ہے تو شرعاً یہ نکاح ہی نہیں ہوا ہے پھر رخصتی اور اس کے بعد ہمبستری جو کچھ بھی ہوئی سب نا جائز ہوئی اگر ایجاب وقبول کے بعد اس نے انکار نہیں کیا، بلکہ خاموش رہی اور اپنی قسمت پر صبر کر کے راضی درخصت ہو گئی تو نکاح صحیح ہو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو