الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق میں بیٹوں کی شہادت

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑا کر کے غصہ ہو کر کہا کہ طلاق دیدوں گا لیکن نہیں دی عورت نے بیان کیا ہے کہ میرے شوہر نے میرا نام لے کر لفظ طلاق سے تین بار تین طلاق صاف دیدیا ہے اور اپنے دو لڑکے عاقل بالغ عادل موجود ہیں، گواہ ہیں، دونوں نے شہادت دی کہ میرے باپ نے میری ماں کو نام لے کر لفظ طلاق سے تین بار طلاق دیا ہے، ہم نے خود سنا مگر تعداد معلوم نہیں، اور یہ بھی کہا باپ کو کہ اگر طلاق دینا ہو تو اچھی طرح دو جواب میں کہا کہ مجھے جیسے معلوم ہے، ویسے دیا ہے، اب علماء کرام سے التماس ہے، کہ اس عورت پر طلاق پڑی یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں عورت طلاق کا دعویٰ کرتی ہے اور شوہر منکر ہے، دو لڑکے ماں کے موافق باپ کے خلاف شہادت دیتے ہیں، لہذا لڑکوں کی شہادت ماں کے موافق ہونے کی وجہ سے شرعاً قابل قبول نہ ہو گی اگر ماں طلاق کا دعوی نہ کرتی بلکہ انکار کرتی تو پھر لڑکوں کی شہادت قابل قبول ہوتی کیونکہ اس صورت میں وہ باپ اور ماں ہر دو کے خلاف تھے: رجل شهد عليه بنوه انه طلق امهم ثلاثا وهو يحجد فان كانت الام…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو