خلاف شرط کرنے سے طلاق
سوال
مسمی زید نے مسماۃ ہندہ کے ساتھ ۴ فروری کو عقد کیا اور قبل نکاح ہندہ اور اس کے والد کے اصرار سے ایک اقرار نامہ لکھا جس میں آٹھ دفعات ہیں دفعہ یہ ہے کہ جب کبھی اور جتنے بھی مندرجہ بالا نمبر:۱، سے نمبر: ۷، تک مین کسی ایک دفعہ کی خلاف ورزی کرنے اور مجھ مقر کی اس خلاف ورزی کو چھ ماہ گذر جاویں تو مقر کی زوجہ مسماۃ ہندہ اور اس کے والد اگر ہوں ورنہ دیگر اعزہ مذکور میں سے تین عزیز کی رائے سے مسماۃ مذکورہ بالا میری زوجیت سے نکل جاوے تو ایسی صورت میں ہر بار مقر کی زوجہ مسماۃ ہندہ کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے نفس پر ایک طلاق…
جواب
اس سے پیشتر متعدد مرتبہ اس واقعہ کا سوال آچکا ہے، محمد حسن خان صاحب کے نام سے ایک مرتبہ اقرار نامہ کی نقل بھی آئی تھی، آپ کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر نے دس روپیہ ماہواری بذریعہ منی آڈر بھیجا جس کو لینے سے زوجہ اور اس کے والد نے انکار کیا نیز ہندہ کا معالجہ شوہر کے مکان پر بھی ہوتا رہا اور شادی کے بعد جب ہندہ رخصت ہو کر شوہر کے مکان پر آئی تو دستور کے مطابق تین روز بخوشی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔