الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کابین نامه وتفویض طلاق

سوال

ایک شخص نے ایک عورت کو حسب دستور دیار مہر معین کر کے دیا شرائط صداقت نامہ مروجہ دینے کا وعدہ کر کے شادی کی مگر بعد نکاح صداقت نامہ نہیں دیا، ملک بنگالہ میں یہ رواج معروف ہے کہ شادی میں صداقت نامہ یا کابین نامہ دیا کرتے ہیں، اس لئے ہر ایک تھانہ میں دوسہ قاضی گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہیں، مگر بعضے بوجہ افلاسی اور تہی دستی کے صداقت نامہ رجسٹری کر کے نہیں دیتے بہر حال بوقت نکاح تذکرۂ صداقت نامہ مروجہ کا ضرور ہوتا ہے، اور صداقت نامہ مروجہ یہ ہے کہ اگر چھ مہینہ تک بی بی کو خورد وپوش نہ دوں یا چھ مہینہ بی بی کے پاس شد آمد…

جواب

نعم وہ زن مسطور مرقومه بالا به سه طلاق مطلقہ ہو گئی چونکہ عرف اور عادات الناس اگر خلاف شرع نہ ہوں تو اس پر عمل کر کے فتویٰ دینا جائز رکھا ہے اور جو خلاف شریعت ہو اس پر عمل کرنا ممنوع ہے۔ فتاوی قاضی خاں میں ہے: انما ينظر الى المتعارف لان الثابت عرفاً كالثابت شرعاً انتهى فتاوی مدنی میں مرقوم ہے: العرف الجاري على قواعد الشريعة معتبر يجب قبوله انتهى ص: ۵۳۶، ہدایہ وجوہرہ میں ہے: کل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو