الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خلاف شرائط کرنے پر زوجہ کو حق طلاق

سوال

زید نے اپنی بیوی ہندہ کے اطمینان کے لئے بموجب تحریر استفتاء اختیار طلاق ہندہ کو تفویض کیا، تحریر کرنے کے بعد زید نے شرائط مسطور کی خلاف ورزی کی ہے، یعنی چھ ماہ گذر گیا اس کے بعد خرچ بھیجا، اور بلا رضا مندی ہندہ مارچ ۱۹۴۰ء بغایت ۳۰ جنوری ۱۹۴۲ء باہر قیام رکھا، ۳۱ جنوری کو زید کے آنے پر ہندہ نے کہا کہ میں تم سے رضامند نہیں ہوں، اور بموجب اقرار نامہ میں مطلقہ ہونا چاہتی ہوں تم بھی اپنی زبانی طلاق دے دو مگر زید طلاق دینا نہیں چاہتا، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بموجب تحریر ہندہ کو از روئے شرع حق طلاق حاصل ہے اور ہندہ…

جواب

صورت مسئولہ میں زوجہ کو اختیار تھا کہ اپنے اوپر طلاق واقع کر لیتی کیونکہ شوہر نے اپنی شرط کے خلاف عمل کیا ہے، لیکن یہ اختیار دو شرطوں کے ساتھ مشروط تھا، ایک یہ کہ دو ماہ برابر نان ونفقہ کے لئے خرچ نہ بھیجوں، دوسری یہ کہ چھ ماہ سے زائد بلا رضا مندی کے اپنی بیوی کے پاس نہ آؤں جاؤں، لہذا جب دو ماہ برابر خرچ نہیں بھیجا تو اس وقت زوجہ کو طلاق واقع کرنے کا اختیار تھا جب اس وقت طلاق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو