تین طلاق
سوال
زید نے بیماری کی حالت میں بلانیت طلاق کے غصہ اور جھنجھلاہٹ میں اپنی بیوی کو کسی بات کے باعث یا جنگ وجدل کے باعث یہ الفاظ کہا کہ تم کو طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، لوگوں میں شور وغل ہوا کہ طلاق ہو گئی لیکن زید نے شرح وقایہ ہدایہ کی عبارتیں پڑھ کر سنائی جس سے لوگوں میں قدرے سکون ہوا دونوں کتابوں کی عبارتیں مندرجہ ذیل ہیں۔ (۱) نیت کے بارے میں یہ ہے کہ اگر کسی نے تین بار طلاق دی اور تینوں بار کچھ نیت نہیں کی تو کچھ واقع نہ ہوگی، اور اہل علم کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ کل کام کا مدار نیت پر ہے۔ (ہدایہ) (۲)
جواب
اگر زید اپنے ہوش میں تھا، اور جو کچھ کہہ رہا تھا، سمجھ کر کہہ رہا تھا، جیسا کہ الفاظ اور طلاق دینے سے صرف زید کو ڈرانا اور دھمکانا ہے سے ظاہر ہے تو صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین طلاق واقع ہو کر مغلظہ ہوگئی کہ اب بلا حلالہ کے اس کو رکھنا حرام ہے، حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عورت عدت طلاق گزار کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، اور وہ اس سے صحبت کرنے کے بعد طلاق دے یا وہ مر جائے پھر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔