مسئلہ تین طلاق
سوال
زید نے اپنی بیوی کی حرکات سے تنگ آکر ایک مجلس میں تین طلاق دے دیا اور اخبار میں طلاق کا اعلان بھی کرادیا، اب شوہر اور بیوی دونوں دوبارہ ملنا چاہتے ہیں، لہذا اس بارے میں علمائے دین اور مفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں، کیا وقت واحد میں تین بار طلاق از روئے قرآن ایک مرتبہ سمجھ کر رجوع کر لیا جائے، یا حضرت رکانہ کے واقعہ کی حدیث کی روشنی پر عمل کر لیا جائے، جب کہ بوقت طلاق اب بھی گواہ موجود نہیں ہے، بیوی نے قبول بھی نہیں کیا لہذا اس بات کی صراحت فرمائیں کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں، اور اگر ہوئی تو کون سی اور اگر دوبارہ…
جواب
طلاق کا اختیار مرد کو ہے، عورت کے قبول کرنے نہ کرنے کو اس میں کوئی دخل نہیں وہ قبول نہ کرے تب بھی ہو جاتی ہے کہ طلاق کا جب شوہر کو اقرار ہے، تو گواہوں کی ضرورت نہیں، جب شوہر نے طلاق لکھ کر بیوی کے پاس بھیج دی ہو یا اخبار میں شائع کر دی ہو اور شوہر کو اپنی تحریر کا اقرار ہو تب بھی ہو جاتی ہے، محبت ورضامندی میں طلاق کی نوبت کم آتی ہے، جب صریح اور صاف لفظوں میں طلاق دے تو اس میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔