قرآن پاک سے تین طلاق کا ثبوت
سوال
پارہ سیقول رکوع ۱۳: «الطَّلاقُ مَرَّتَان“سے لے کر” زَوْجًا غَيْره“کی عربی عبارت میں لفظ ثلاثہ (جس کے معنی اردو میں تین ہیں) نہیں آیا ہے اور نہ ہی کوئی حافظ لفظ ثلاثہ رکوع مذکور میں پڑھتا ہے، آپ بھی پڑھ کے دیکھئے، لہذا جب کہ قرآن کی عربی عبارت میں ثلاثہ نہیں ہے، تو پھر اردو ترجمہ میں تین کیسے آگیا؟ لہذا تین طلاق کا ثبوت قرآن پاک سے ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس آیت سے؟
جواب
آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ طلاق دو دفعہ تو ایسی ہے کہ شوہر کو اختیار باقی رہتا ہے، کہ دل چاہے تو بیوی کو ادائے حقوق کیلئے اچھے طریقہ پر روک لے، (عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے رجعت کرلے) اور چاہے تو اس سے بے تعلق ہو جائے، (رجعت نہ کرے)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔