مجلس واحد کی تین طلاق کا حکم
سوال
زید نے اپنی بیوی کی سخت کلامی پر برہم ہو کر حالت غضب میں اس کی غیر موجودگی میں ایک دوسری عورت کے سامنے تین طلاقیں بیک وقت دیں، اور اس کا اظہار دوبارہ دوسرے شخص سے کیا کہ میں نے اس طرح طلاق دی، پھر تیسرے شخص نے سوال کیا کہ تم نے کس طرح طلاق دی، زید نے انہیں بھی بتلایا، بعد میں معلوم ہوا کہ زید کی بیوی حاملہ ہے، بکر نے مشورہ دیا، اور مسلک اہل حدیث نے فتویٰ دیا کہ تم رجعت کر لو، حالانکہ زید حنفی مسلک ہے، زید نے رجعت کر لی، پانچویں دن، اور اسکے ہمراہ بیس یوم گزارے، اس کے بعد لڑکی کے والدین آئے اور لڑکی کو یہ کہہ کر…
جواب
(فتویٰ کی نقل) از مختار احمد ندوی خطیب جامع مسجد اہل حدیث بمبئی صورت مسئولہ میں زید کو حق حاصل ہے، کہ اندورن عدت بیوی سے رجعت کر لے اور انقضاء عدت کے بعد نکاح جدید کے ذریعہ اپنی زوجیت میں لے آئے، کیونکہ اس کی دی ہوئی ایک مجلس میں تین طلاقیں حکم میں ایک رجعی طلاق کے ہیں۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔