الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تحریر طلاق بلا دستخط

سوال

رحیم الدین کی لڑکی صفیہ ہے، رحیم الدین نے اپنی لڑکی صفیہ کی بکر کے لڑکے کریم کے ساتھ شادی کر دی چند روز کے بعد صفیہ اور کریم کے درمیان مخاصمت ہوئی اس بناء پر رحیم الدین صفیہ کو گھر لایا تھوڑے دنوں کے بعد رحیم الدین ایک طلاق نامہ لایا اور کہا میں صفیہ کا طلاق نامہ لایا ہو:”كل نفس ذائقة الموت رحیم الدین نے انتقال کیا، رحیم الدین جو طلاق نامہ لا یا اس میں کریم کے تحریری دستخط نہیں تھے، بلکہ رنگوں کی سیاہی سے ٹیپ تھی جب صفیہ کی عدت ختم ہو گئی تو ناکح نے کریم کو بلایا جو صفیہ کا شوہر تھا تو کریم نے کہا کہ میں نے واللہ…

جواب

اس تحریر کی رو سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوئی: کل کتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق مالم يقرانه كتابه ا هـ رد المحتار ص: ۵۸۹، ج: ۲، مصری. پھر اگر پریزیڈنٹ کے کہنے پر شوہر نے طلاق دیدی ہے تو وہ واقع ہوگئی اور طلاق کے وقت سے زوجہ پر عدت واجب ہے، جو کہ تین حیض ہے، اگر زوجہ حاملہ نہ ہو ورنہ وضع حمل ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو