نیم خوابی کی حالت میں طلاق
سوال
اگر کوئی شخص بیٹھے بیٹھے یا لیٹے لیٹے آدھا سوتا ہے آدھا جاگتا ہے، اور اسکے منہ سے طلاق والے الفاظ نکلے تو اس سے کچھ ہوتا ہے یا نہیں؟ ایسے ہی نکلے تو کیا حکم ہے؟ اور اپنی یا بیوی کے لئے نکلے تو کیا حکم ہے؟
جواب
نیم خوابی کی حالت میں بے اختیار بغیر مطلب سمجھے طلاق کے الفاظ نکلنے سے طلاق نہیں ہوتی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔