الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صیغہ استقبال سے طلاق کا حکم

سوال

زید اور اس کی منکوحہ میں بہت محبت تھی، ایک روز خلوت میں تھے، دونوں پر شہوت طاری تھی، زید کی منکوحہ نے کہا اگر میں نے ہاتھ چھڑا لیا تو مجھے چھوڑ دو گے، یعنی طلاق دیدو گے، یہ انداز طلاق لینے کا نہیں تھا، بلکہ خوامخواہ ہاتھ چھڑا کر اپنی بہادری دکھانا تھا، زید نے ہاں کر دیا، منکوحہ نے کوشش سے ہاتھ چھڑا لیا، اس کے بعد صحبت کی کیا طلاق پڑ گئی؟ اس واقعہ کے بعد چار بچے ہو چکے ہیں؟

جواب

زید کی منکوحہ کو طلاق نہیں ہوئی، فتاوی عالمگیری ص ۳۵۸-۳۵۹ میں ہے” فقال الزوج اطلق طلاق میکنم طلاق میکنم فکرره ثلاثاً طلقت ثلاثاً بخلاف قوله ساطلق طلاق کنم لانه استقبال فلم يكن تحقيقاً بالتشکیک۔ جواب صحیح ہے، صورت مسئولہ میں زیادہ سے زیادہ وعدہ طلاق ہو سکتا ہے ایقاع طلاق ہر گز نہیں ہو سکتا، اس لئے بلا شبہ کوئی طلاق نہیں ہوئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو