وتر میں نخلع ونترک پڑھتے وقت بیوی کی طلاق کا خیال آنی کا حکم / (مع فتوی حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ)
سوال
زید نماز وتر پڑھا رہا تھا، جب اس نے دعاء قنوت پڑھی اور نخلع ونترک پر جب پہنچا تو اس کے دل میں طلاق کا خیال آگیا اور پہلے سے کوئی ارادہ نیت نہیں تھی، بلکہ یہ بھی کامل یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ کہتے وقت بھی نیت تھی یا بعد کہہ دینے کے ہوئی من يفجرک کے متعلق یہ ہے کہ زید کی منکوحہ کبھی کبھی نماز چھوڑ دیتی ہے، اور کوئی فسق وفجور نہیں کرتی مگر جس وقت نخلع ونترک کا قصد ہوا اس کا شوہر یعنی زید پردیس میں تھا، اس کو نہیں معلوم کہ نماز پڑھ رہی تھی، اس زمانہ میں یا نہیں غالب گمان ہے، کہ پڑھ رہی ہوگی، اس لئے کہ یہ واقعہ…
جواب
جواب از مفتی کفایت اللہ صاحب الجواب: محض دل میں طلاق کا خیال آنے سے طلاق نہیں ہوتی جب کہ زبان سے طلاق کے الفاظ ادا نہ کئے جائیں۔ (کفایت اللہ کان اللہ لہ) نوٹ: حضرت مفتی صاحب مدظلہ کا فتوی ارسال خدمت ہے، برائے مہربانی مفتی اعظم صاحب کے جواب پر نظر ثانی فرمائی جائے، اور مطلع فرماویں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔