الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کو میکے پہنچانا طلاق نہیں

سوال

ایک شخص اپنی بیوی کو چھوڑنے کی نیت سے گاڑی میں سوار کر کے اپنے خسر یعنی بیوی کے والدین کے گاؤں کے نزدیک ہی چھوڑ آیا اور زیورات وپارچات لیکر وہ عورت خود گھر چلی گئی، اس کو چھ سال ہو گئے ہیں، اس شخص نے دوسرے نکاح کی بھی جستجو کی لیکن نہیں ہو سکا، پھر مجبوراً وہ اس عورت کی طرف رجوع ہوا، اب وہ عورت اس کی بیوی رہی یا نہیں۔

جواب

اگر صراحة یا کنایہ طلاق نہیں دی تو وہ عورت بدستور اس کی بیوی ہے، محض دل میں نیت کر کے بیوی کو اس کے والدین کے گھر پہنچانے اور نکاح ثانی کی جستجو کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو