محض دیر تک میکہ میں رہنے سے طلاق نہیں ہوئی
سوال
زید کی پہلی بیوی دائم المرض ہے، خانگی کاروبار ٹھیک نہیں چلا سکتی، لہذا زید نے اپنی پہلی بیوی کی مرضی سے نکاح ثانی کیا ہے کیونکہ پہلی بیوی لا ولد ہے، دونوں بیویوں کو ایک مکان میں رکھنے کا انتظام نہ ہو سکا، اس لئے پہلی بیوی کو اس کے والدین کے گھر چھوڑا، عقدِ ثانی سے اب تک تین سال کا عرصہ ہوا، مگر زید کو پہلی بیوی کے پاس جانے کا موقعہ نہیں ہوا، اس لئے بعض لوگوں کو زید کے طلاق دینے کا شبہ ہوا، مگر زید نے زبانی اور تحریری طلاق نہیں دی، اور اس نے ایک جماعت کے سامنے حلفاً اقرار کیا کہ میں نے پہلی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے،…
جواب
جب کہ طلاق کا کوئی ثبوت نہیں اور شوہر پوری قوت سے طلاق کا منکر ہے، تو طلاق کا حکم کرنے کی کوئی وجہ نہیں، شوہر اپنی بیوی کو بلا سکتا ہے اور بیوی اس کے پاس جا سکتی ہے، اور خسر بھیج سکتا ہے، اور شوہر دونوں بیویوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے تیار ہے، لہذا پہلی بیوی کو ضرور شوہر کے پاس بھیج دیا جائے، خاص کر ایسی صورت میں کہ بیوی بھی اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔