عدد طلاق میں شک
سوال
زید اور اس کی بیوی ہندہ میں نزاع ہوا زید نے ہندہ مذکورہ کو ایک سے زائد طلاق دیں (غالبا اس طرح میں نے تجھ کو طلاق دیدی قطعی دیدی اور پچھلا فقرہ قطعی دیدی ایک بار یا دو بار تین بار اس کو سننے والوں نے دویا تین یا چار سمجھا) اور گھر سے نکل جانے کو کہا، پھر جب غصہ فرو ہو گیا تو اس نے اپنی بیوی مذکورہ کو اپنے گھر میں رکھ لیا اور اب تک حسب معمول سابق اس کے پاس رہتی ہے، واقعہ مذکورہ کی تفصیل زوجین اور دو عورتوں عائشہ اور زینب کے بیان کے مطابق جو جھگڑے کے وقت موجود تھے، بطور ذیل ہے۔ (۱)
جواب
چاروں میں کسی کے بیان میں بھی الفاظ طلاق کا ذکر نہیں کہ کیا تھے، سائل نے جو کچھ لکھا ہے وہ بھی یقین کے ساتھ نہیں لکھا، پس اگر صریح الفاظ طلاق کے کہے تو حکم یہ ہے کہ اگر ہندہ کے نزدیک زینب کا بیان صحیح ہے، اور زینب ثقہ عادلہ ہے تو ہندہ کو اپنے شوہر کے پاس رہنا جائز نہیں، البتہ حلالہ کے بعد نکاح درست ہو سکتا ہے اگر زینب ثقہ عادلہ نہیں اور ہندہ کو اسکے کہنے کا یقین نہیں اور عائشہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔