الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اقرار طلاق سے طلاق

سوال

میں کہ محمد مجتبی عرف ڈھلو کی شادی شمیمہ بانو کے ساتھ ہوئی، پھر محبت واخلاق سے دس بارہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد محمد مجتبی اپنی منکوحہ بیوی کو اس کے گھر لا کر پہنچا دیا پھر رخصتی کرانے کے لئے نہیں آتا، بلکہ غیروں کے سامنے کہتا ہے کہ میں نے اس کو طلاق دیدیا، اور اس نے دوسری شادی کر لی، لڑکی کے خالو محمد ایوب نے جب کچھ پوچھا کہ کیوں رخصتی نہیں کراتے تو اس نے ایوب سے کہا کہ میں نے اس کو طلاق دیدیا اور کاغذی طور پر طلاق نہیں دیا، بلکہ جو بھی پوچھتا ہے تو کہتا ہے، کہ میں نے طلاق دیدیا تو اسکے زبانی طلاق دینے سے طلاق…

جواب

طلاق زبانی دینے سے بھی واقع ہو جاتی ہے لکھ کر دینے پر موقوف نہیں ہے، پس جب کہ شوہر کو طلاق کا اقرار ہے تو وقت طلاق سے تین ماہواری عدت گزرنے پر اس کی مطلقہ بیوی کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا حق حاصل ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو