طلاق کی اضافت عورت کی طرف
سوال
زید اپنی خوشدامنہ کے ساتھ سالہ وسمدھی کے بارہ میں جھگڑا کر رہا تھا، جب زید گھر سے باہر نکل آیا، تو اسکی خوشدامنہ نے کہا کیوں لوٹ جا رہے ہو، تو زید واپس آیا، اور اپنی ساس کو خطاب کر کے کہنے لگا کیا تم طلاق لے لو گی اور اپنی زبان سے ایک طلاق دو طلاق تین طلاق بائن طلاق کہا، پھر کسی وقت جب اس کو کہا گیا کہ تم نے تمہاری زوجہ کو طلاق دیدی تو زید کہتا ہے میں نے طلاق دیتے وقت اپنی زوجہ کو طلاق نہیں دی، اور اپنی عورت کا ارادہ نہیں کیا۔ (۱) تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ (۲)
جواب
(ا تا ۶) اگر زید نے زوجہ کو نہ طلاق کا خطاب کیا نہ اس کا نام لیا نہ اس کی طرف اشارہ کیا نہ اس کی طرف ضمیر راجع کی نہ اس کی کوئی صفت بیان کی۔ نہ اس کو ندادی، بلکہ خوشدامنہ کو خطاب کر کے الفاظ مذکورہ ادا کئے ہیں اور اب دریافت کرنے پر کہتا ہے کہ میں نے اپنی زوجہ کو طلاق نہیں دی، اور زوجہ کو طلاق دینے کا ارادہ نہیں کیا، تو قسم کے ساتھ زید کا قول شرعاً معتبر ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔