وعدہ طلاق سے طلاق نہیں ہوتی
سوال
زید نے اپنی بیوی کو اس کے ماں باپ کے یہاں سے لے جانے کا تقاضہ کیا مگر کسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوئی اس پر زید نے جہاں تک اس کو یاد ہے، اپنی بیوی کے بھائی سے یہ لفظ کہے کہ شریفوں میں مقدمہ بازی کرنے اور مستورات کو عدالت میں لے جانے کے بہ نسبت مر جانا یا طلاق دیدینا بہتر ہوتا ہے، اگر معاملہ عدالت تک جائے گا، تو میں بھی طلاق دیدینے کو ترجیح دوں گا، بجائے اس طرح بے غیرت ہونے کے اور زید نے تاکیداً اس کے بھائی سے ۱۵ تاریخ تک پہنچا دینے کو کہا جو الفاظ زید نے کہے تھے زید ان کے متعلق حلف شرعی اٹھانے کو…
جواب
مسماۃ کے بھائی کا بیان اگر تسلیم کر لیا جائے تب بھی شرعاً طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ اسکا بیان ہے کہ اگر زید کی بیوی ۱۵ تاریخ تک اس کے گھر نہ پہنچ گئی تو زید طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے گا اور اس بیان میں طلاق نہیں دی گئی، بلکہ طلاق کا وعدہ کیا گیا ہے، اور وعدۂ طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ اگر طلاق نامہ لکھ کر بھیج دیتا تو اس طلاق نامہ کی وجہ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔