الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مذاق میں طلاق

سوال

زید نے اپنی دو دختران کا نکاح دو حقیقی برادران سے کر دیا تھا، عرصہ تک اچھی طرح رہتے رہے، دختران کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی ہمیشہ مذاق مذاق میں کہا کرتے ہیں کہ تم اپنے ماں باپ کے گھر سے کچھ لے کر نہیں آئیں، ہم تو ایسی جگہ کریں گے جو خوب مال لے کر آویں، ایک روز صاف لفظوں میں اول بڑے بھائی نے کہا کہ تم ہمارا پیچھا چھوڑو، ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ایک مرتبہ طلاق کا لفظ بھی کہا کہ چھوڑ دیا طلاق دیدی، ہم نے کہا کہ طلاق نامہ لکھ دو اور ہمارے گھر پہنچا دو ہم نے اس کو بھی مذاق ہی سمجھا، انہوں نے کہا کہ چلو ہم تمہارے والدین کے…

جواب

طلاق مذاق میں بھی ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر لڑکیوں کا بیان صحیح ہے، تو شرعاً طلاق واقع ہوگئی: وطلاق اللاعب والهازل به واقع. ا هـ عالمگیری ج ۱، ص ۳۵۳. نوٹ: لیکن محض لڑکیوں کے بیان پر دوسرا نکاح نہ کیا جائے بلکہ معاملہ صاف کرنا ضروری ہے، اگر شوہر اقرار کرے تو عدت کے بعد نکاح ہو سکتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو