مذاق میں طلاق اور طلاق کا جھوٹا اقرار
سوال
زید نے اپنی بیوی سے جھگڑا کیا اور غصہ کے عالم میں اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں نہ رکھوں گا، پھر جب گھر سے باہر نکلا تو ایک صاحب نے مذاق میں کہا کہ آپ نے اپنی بیوی کو کیسی طلاق دی ہے، زید نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں نے طلاق مغلظہ دی ہے، اپنی بیوی کے سامنے بھی نہیں کہا تھا صرف دوسرے سے مذاق میں زبان سے نکل گیا کوئی دل سے نہیں کہا، اب اس صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ طلاق مغلظہ ہو گی یا نہیں؟ اور اپنی بیوی کو بغیر حلالہ کے رکھ سکتا ہے، یا نہیں؟
جواب
اگر ہنسی مذاق میں بھی اس نے طلاق مغلظہ دیدی تب بھی واقع ہوگئی چاہے بیوی سامنے ہو یا نہ ہو، لیکن اگر اس کا مقصود اس لفظ سے طلاق مغلظہ کی غلط خبر دینا تھا، یعنی مخاطب کے سامنے جھوٹی خبر دینا تھا اور جھوٹ کا اقرار کرنا تھا، تو ديانةً فيما بينه وبين الله تعالی طلاق نہیں ہوئی، اگر پہلے اس پر گواہ بنالیا تھا کہ میں جھوٹا اقرار کروں گا، تو قضاء بھی طلاق نہیں ہوئی اگر طلاق مغلظہ کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔