طلاق کا اقرار کاذب
سوال
شوہر اور بیوی میں باہم نا اتفاقی رہتی تھی، کہ بیوی اپنے والدین کے گھر بیٹھ گئی اورشوہر پر عدالت میں نان ونفقہ کا دعویٰ دائر کر دیا، شوہر نے کہا کہ اگر بیوی میرے گھر پر رہے گی، تو میں نان ونفقہ دینے کو تیار ہوں، خلاصہ یہ کہ آپس کی رضامندی سے مقدمہ واپس لے لیا، اور بیوی شوہر کے گھر آگئی، پھر کچھ عرصہ کے بعد بیوی کو شوہر کے خلاف لوگوں نے بھڑکا دیا اور جبراً طلاق دینے پر مجبور کیا، اس پر شوہر نے کہا کہ اب طلاق کا سوال ہی کیا، میں تو عدالت میں طلاق دے چکا ہوں اور یہ صرف دفع الوقتی کے طور پر کہا، اگر عدالت کے روبرو طلاق…
جواب
جب شوہر نے محض دفع الوقتی کے لئے طلاق کا اقرار کر لیا اور حقیقہ عدالت میں طلاق نہیں دی تھی، تو دیانہ طلاق واقع نہ ہوگی، البتہ اگر مقدمہ عدالت میں پہنچے گا، تو بقاعدہ شرعیہ اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی مان لی جائے گی، اس کو عدت تین حیض گذرنے سے پہلے پہلے رجعت کا حق حاصل رہے گا، مثلاً اس طرح کہ دو آدمیوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی طلاق واپس لے لی ہے پھر دونوں حسب سابق شوہر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔