عورت کی طرف طلاق کی نسبت
سوال
زید نے اپنی والدہ کے ساتھ جھگڑا افساد کیا، اتنے میں اس کی والدہ نے کہا کہ اس وجہ سے تیری بیوی مجھ سے بے پروائی سے پیش آتی ہے، تو زید نے کہا کہ اس کو چھوڑوں گا، اور تاکید تخلف کی اور چلا گیا، اور گھر میں جا کر بھاگ جانے کے ارادہ سے گٹھری وغیرہ تیار کر کے برآمدہ میں آکر کہا، آگے دو طلاق دیا تھا، اب ایک دیا، چار سال سے زائد ہوئے کہ زید اپنی منکوحہ کو دو طلاق دے کر رجعت کر لیا، کیا اس صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین طلاق پڑ گئی یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
جواب
اگر زید کے ایک بیوی ہے، جس کو پہلے دو طلاق دے چکا ہے، تو صورۃ مسئولہ میں بلا تامل تین طلاق واقع ہو کر مغلظہ ہوگئی: ولو قال لها داد مت یک طلاق وسکت ثم قال ودوطلاق وسه طلاق تقع الثلاث ولو قال ترايك طلاق وسكت ثم قال ودو يقع الثلث ولو قال دو بغير الواؤ، ان نوى العطف تقع الثلث وان لم ينو تقع واحدة كذا في الخلاصة اهـ ص: ۳۸۰، ج: ۱، دیکھئے یہاں کافی سکوت کے بعد صرف لفظ دو کہا ہے نہ اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔