الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق کیلئے تحریر ضروری نہیں

سوال

دو شخصوں نے اپنی دو لڑکیوں کی بطور ادل بدل شادی کی بعد ازیں ایک شخص نے اپنی لڑکی اپنے گھر بٹھائی اور اس کے خاوند کے ساتھ روانہ نہ کی جب اس لڑکی کو اپنے باپ کے گھر بیٹھے پورا ایک سال گذر چکا تو اس لڑکے نے دوسری شادی کر والی، اور وہ لڑکی اپنے باپ کے گھر بیٹھی رہی، اب اس لڑکی کے باپ نے اس لڑکے سے کہا کہ میری لڑکی کو گھر بیٹھے ہوئے پورے تین سال گزر چکے ہیں یا تو تم اپنے گھر میں لاؤ ورنہ طلاق نامہ لکھو، اس نے اپنے خسر سے کہا کہ میری بھانجی جو تمہارے بھتیجے سے بیاہی ہوئی ہے، تم اس کو طلاق دیدو تو میں بھی اس کو طلاق…

جواب

شرعاً پندرہ سال پورے ہونے پر لڑکا بالغ قرار دیدیا جاتا ہے گرچہ اس میں علامت بلوغ ظاہر نہ ہو پس اگر وہ لڑکا اپنی زوجہ کو طلاق دے تو وہ واقع ہو جائے گی، اور شرعاً معتبر ہوگی، اگر اس کی طرف سے اس کا کوئی ولی باپ یا چچا وغیرہ اس کی زوجہ کو طلاق دے گا تو وہ واقع نہ ہوگی طلاق کا وقوع تحریر پر موقوف نہیں، زبان سے کہنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے: ھو رفع قيد النكاح في الحال بالبائن او…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو