الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تنقيح / طلاق دینے سے بائیکاٹ وغیرہ کی سزا

سوال

زید بکر دو سگے بھائی ہیں، دونوں کی زوجہ دوسگی بہنیں ہیں، دونوں بہنیں اپنے شوہروں سے خانگی معاملات میں مفاہمت نہیں رکھتی ہیں اور نہ تابعداری وفرماں برداری شوہر پر عمل کرتی ہیں، حتی کہ حالت بیماری میں شوہر کو چھوڑ کر میکہ چلی گئی ہیں، دریں صورت دونوں بھائیوں کا گھر جہنم بنا ہوا ہے، اور استواری معاملات کی نہیں ہو رہی ہے، یہاں تک کہ دونوں بہنیں فارغ خطی کی خواہشمند ہیں، زید وعمر بھی ان سے خلاصی چاہتے ہیں، مگر برادری اور پنچایتوں کے کچھ طور طریق، قواعد وقانون وغیرہ ایسے ہیں جو طلاق دینے میں مانع ہیں، مثلاً جرمانہ، شادی…

جواب

بلا وجہ ذرا ذراسی بات پر طلاق دینا شرعاً نا پسند اور عند اللہ مبغوض ہے لیکن جب دونوں کے دلوں میں نفرت ہے، اور حقوقِ زوجیت ادا نہیں ہو رہے ہیں، گھر جہنم بنا ہوا ہے، بیویوں کی طرف سے بھی طلاق کا مطالبہ ہے، شوہر تنگ ہو کر طلاق دینا چاہتے ہیں، تو ایسی حالت میں طلاق دینا منع نہیں، بلکہ بہتر ہے کہ طلاق دے کر تعلق ختم کر دیا جائے کہ غالب خیال اور قرین عقل بات یہ ہے کہ اس صورت میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو