الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسائل طلاق کے لئے کمیٹی اور اس کے قوانین

سوال

ہمارے یہاں بہت سی خراب باتیں عام طور سے ہونے لگی ہیں، مثلاً (۱) ذرا ذراسی بات پر خواہ مخواہ عورت کو طلاق دینا، (۲) بلا وجہ مار پیٹ کر زبر دستی طلاق لے لینا (دلوانا) (۳) ہندہ کے والد نے ہندہ کا نکاح بکر سے کیا نکاح کے بعد ہندہ کے والد نے بجائے شوہر کے یہاں بھیجنے کے غیر کے یہاں ہندہ کو بھیجا بغیر طلاق وغیرہ کے، اس جرم کی روک تھام کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی تاکہ وہ شرعی فیصلہ کرے، کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

(۱) آپ کی قوم میں پیدا شدہ خرابیاں یقینا سخت تباہ کن ہیں اور واجب الاصلاح ہیں۔ (۲) شریعت کی نظر میں طلاق بہت ہی مبغوض ہے، سخت مجبوری کی حالت میں اس کی اجازت دی جاتی ہے، اس لئے ذراذراسی بات پر جب کہ عورت بے خطا ہو طلاق دینا درست نہیں ہے: لان الاصل في الطلاق هو الحظر والاباحة لحاجة الخلاص هدايه. ص ۳۳۳ ج ۲ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو