الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلا وجہ طلاق دینا

سوال

لڑکا اور لڑکی دونوں جوان ہیں اگر اپنے ماں باپ سے چھپ کر دو انجان مسلمان گواہوں یا جاننے والے گواہوں کے سامنے اپنا نکاح کر لیں تو جائز ہے، یا نہیں پھر اس لڑکی کے ماں باپ اس کا نکاح کسی اونچے خاندان میں کرنا چاہیں اس لئے کہ لڑکی کے ماں باپ کو معلوم نہیں ہوا کہ اس نے اپنا نکاح کر لیا ہے، اگر میں اس لڑکی کو طلاق دے دوں تا کہ بعد عدت اس کا نکاح دوسری جگہ ہو جائے، تو ایسا فعل شرعاً کرنا کیسا ہے۔

جواب

اگر وہ طلاق دیدے گا تو شرعاً طلاق واقع ہو جائے گی اور بعد عدت دوسری جگہ اس کا نکاح بھی درست ہوگا، مگر بلا وجہ شرعی طلاق دینا نا پسند ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو