طلاق بحکم والدین
سوال
زید کی شادی والدین نے اپنی مرضی کے مطابق ایک قریبی رشتہ دار کے یہاں کردی، کچھ دنوں کے بعد زید کے والدین کہتے ہیں کہ طلاق دے دو، لیکن زید کی بیوی میں کوئی اخلاقی ومعاشرتی ودینی کوتاہی نظر نہیں آتی، زید نے والدین سے کہا کہ میری نظر میں کوئی اپنی بیوی میں کوتاہی نہیں دیکھتا ہوں جس سے میں طلاق دوں، ہاں اگر آپ حضرات کی نظر میں کوئی غلطی ہو تو فرمائیں، میں اگر وہ غلطی دیکھوں گا، فوراً اس کو دور کرنے کے لئے تدابیر اختیار کروں گا، اگر غلطی کی اصلاح نہ ہوئی تو میں طلاق بھی دے سکتا ہوں آپ کی مرضی کے مطابق لیکن والدین نے…
جواب
جب کہ بیوی میں دینی، اخلاقی، معاشرتی کسی قسم کی خرابی نہیں اور وہ اپنے شوہر کے والدین کو نہیں ستاتی، بلکہ ان کی خدمت کرتی اور ان کو خوش رکھتی ہے، ادھر شوہر کو یہ بھی اندیشہ ہے کہ اگر بیوی کو طلاق دیدی تو بیوی کی حق تلفی ہوگی، تو ان مجموعی حالات کے پیش نظر طلاق نہیں دینی چاہئے، طلاق نہ دینے سے زید گنہ گار نہیں ہو گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔