الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تنگی وقت کی وجہ سے بلا غسل نماز پڑھنا

سوال

(۱) اگر کسی کو احتلام ہو جائے اگر وہ غسل کرتا ہے تو نماز قضا ہو جاتی ہے، کیا وہ استنجاء پاک کر کے نماز ادا کر لے اور بعد میں غسل کرلے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ ۲- اگر رات کو ہمبستری سے فارغ ہو کر اپنے جسم کی نجاست شدہ حصہ کو پانی سے دھولے اور صبح کو استنجاء کر کے نماز قضا ہو جانے کی وجہ سے نماز ادا کر لے اور پھر غسل کرلے تو کیا نماز ہو جائے گی؟ ۳- اور احتلام کی صورت میں صبح کو غسل کا خیال نہ رہا، نماز صبح ادا کر لی، پھر خیال آیا کہ غسل کرنا تھا پھر غسل کیا تو نماز دو بارہ پڑھی جائے گی یا نہیں؟

جواب

(۱) غسل ضروری ہے وقت تنگ ہونے کی وجہ سے اس کو ترک کر کے استنجاء پر کفایت کرنا جائز نہیں اس سے نماز نہیں ہوگی۔ ۲- اس کا جواب اوپر آ گیا۔ ۳۔ اس کی نماز نہیں ہوئی اس کا اعادہ ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو