الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا غسل جنابت سے پہلے وضو کر نا ضروری ہے

سوال

غسل جنابت کی حالت میں غسل کرتے وقت وضو سے پہلے بھی غسل کیا جا سکتا ہے اور پھر غسل سے فراغت پانے کے بعد وضو کیا جاتا ہے یا کہ ہر حالت میں غسل کرنے سے پہلے ہی وضو کر لینا لازم ہے، اگر زید نے وضو کرنے کے بعد غسل کرنا شروع کیا اور غسل سے فراغت سے پہلے ہی بوجہ اخراج ریح اس کا وضو ٹوٹ گیا اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ پہلے دوبارہ وضو کرے اور اس کے بعد از سر نو غسل کرے یا وہ پہلے پورا غسل کرے اور اس کے بعد دوبارہ وضو کر کے نماز ادا کرسکتا ہے۔

جواب

سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے وضو کرے پھر غسل کرے، وضو کے بعد اگر خروج ریح ہو جائے پھر غسل میں اعضاء وضو پر پانی بہا دیا جائے تب بھی کافی ہے جدا گانہ وضو کی ضرورت نہیں۔ ۲- اس کا وضو نہیں ٹوٹا اتفاقا اگر کسی کی نظر پڑ بھی جاتی تب بھی وضو نہ ٹوٹتا

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو