غسل خانہ میں پیشاب
سوال
ایک بڑی مسجد ہے اس میں بیت الخلاء اور پیشاب خانہ بنا ہوا نہیں ہے غسل خانہ پختہ ہے نالیوں سے نالی ملی ہوئی ہے، کبھی کبھی تبلیغی جماعت کا آنا ہوتا ہے مسافر بھی آتے ہیں اس لئے اگر وہ ان میں پیشاب کریں اور پانی بہادیں تو کیا یہ صورت جائز ہے، کیا اس غسل خانہ میں پیشاب کرنا شرعا ممنوع ہے یا نہیں؟
جواب
قال ابن ملک لان ذالك الموضع يصير نجسا فيقع في قلبه وسوسة بانه هل اصابه منه رشاش ام لا حتى لو كان بحيث لا يعود منه رشاش كان فيه منفذ بحيث لا يثبت فيه شيء من البول لم يكره البول فيه. (طحطاوي ص: ۳۰) وضو اور غسل کی جگہ پیشاب کرنا مکروہ ہے لیکن اگر غسل خانہ میں پانی نکلنے کی نالی ہے اور پیشاب کے بعد فوراً پانی بہادیا جائے اور پیشاب کا أثر باقی نہ رہے تو مکروہ نہیں تاہم وہاں پیشاب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔