الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا غسل میں ناک میں پانی دینا فرض ہے؟

سوال

کسی کو غسل جنابت کی ضرورت پیش آئی تو اس نے پہلے پیشاب کیا، پھر اسکے بعد نجاست پاک کی، پھر اس کے بعد اس نے دونوں ہاتھ دھوئے پھر کلی کی پھر تمام بدن پر پانی بہائے، اس کے بعد اس نے نماز صبح و ظہر و عصر و مغرب و عشاء پڑھی، تو کیا یہ نماز اس کی ہو گئی؟ نیز کیا غیر غسل جنابت کے ہر غسل میں کلی کرنا، ناک میں پانی دینا فرض یا واجب ہے یا سنت؟

جواب

ناک میں پانی دینا غسل جنابت میں فرض ہے، بغیر اسکے غسل نہیں ہوگا اور بغیر غسل کے نماز نہیں ہوگی غسل جنابت کے علاوہ اور کسی غسل میں پانی دینا فرض نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو