الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ناپاک انگلی کو چاٹنے سے پاکی کا حکم !

سوال

ایک مسئلہ جو حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب بہشتی زیور میں مسائل کے بیان میں فرمایا ہے کہ اگر انگلی میں کوئی نجاست لگ جائے تو اسے تین مرتبہ چاٹ لینے سے وہ پاک ہو جاتی ہے، لیکن چاٹنا منع ہے اس مسئلہ میں ایک رضا خانی صاحب کا یہ اعتراض ہے کہ نجاست میں سے تو پیشاب پائخانہ بھی ہے تو اگر یہ بھی انگلی میں لگ جائے تو چاٹ لینے سے پاک ہو جائیگا، تو اس میں دو خرابی پائی گئی اولا یہ انگلی پاک کرنے کیلیے منہ کو نا پاک کیا گیا اور ثانیاً یہ کہ پائخانہ وغیرہ کو کھانے کی ترکیب بتائی جارہی ہے یعنی اس میں…

جواب

بہشتی زیور میں جب صاف لفظوں میں موجود ہے لیکن ایسا کرنا منع ہے تو پھر معترض کا یہ کہنا کہ پائخانہ وغیرہ کھانے کی ترکیب بتائی گئی ہے یہ اس کی کج دماغی اور غوایت ہے کہ منع کرنے کو بھی ترکیب بتانا کہہ رہا ہے ایسے دماغ کو دراصل مسئلہ سمجھنے میں غلطی نہیں ہوتی بلکہ ان کو صحیح بات کا بھی مطلب بتلا کر گمراہ کیا کرتا ہے اس مسئلہ کی دلیل کتب فقہ مین موجود ہے،

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو