حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بول کا پینا
سوال
سید نوری صاحب نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا بلغم وغیرہ صحابی نوش جان فرمایا کرتے تھے، اور پیشاب بھی ازواج مطہرات بلا کسی عذر سے نوش فرمایا کرتی تھیں کیا یہ درست ہے؟
جواب
ان روایات سے ثابت ہوا کہ دو مرتبہ اسکے پینے کی نوبت آئی ہے، عمومی طور پر ایسا نہیں ہوتا تھا، مواہب لدنیہ عینی شرح البخاری، شرح اشباہ وغیرہ میں بھی یہی چیز موجود ہے، اور یہ حضرت نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی خصوصیت ہے، تھوک بلغم کا درجہ بہت ہلکا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔