چمار کا دوہا ہوا دودھ
سوال
ایک شخص چمار جو کہ کاشت کار ہے اس کے یہاں دو بھینسیں ہیں اسکا لڑکا ہاتھ دھوکر مسلمان کے برتن میں دودھ نکالتا ہے اور ایک شخص ہندو ہاتھ دھو کر تمام گاؤں کا دودھ لیتا ہے اور ہاڑتا ہے، چند مسلمان اور ہندو اعتراض کرتے ہیں کہ چمار کے یہاں کا دودھ لینا ٹھیک نہیں اور ہندو کے ہاتھ کا دودھ جائز ہے، لہذا تشریح کر دیجئے تا کہ اہل دیہہ کو فتویٰ دکھا کر تسلی کر دی جائے۔
جواب
اگر اپنے سامنے کسی غیر مسلم کے ہاتھ پاک کر دے تو وہ پاک ہوں گے مسلمان کا برتن بھی پاک اسکے ہاتھ بھی پاک تو شرعاً اسمیں کوئی مضائقہ نہیں البتہ اگر اسکے ہاتھ پاک نہ کرائے تو چونکہ چمار اکثر نجاست میں ملوث رہتے ہیں اس لیے ظاہر یہ ہے کہ اسکے ہاتھ بھی نجس ہوں گے اس سے احتیاط بہتر ہے اگرچہ قطعی حکم ناپاکی کا اس وقت بھی نہیں لگایا جاسکتا جب تک کسی معتبر طریقہ سے خواہ دیکھ کر یا کسی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔